Thursday, May 2, 2019



پاکستان میں چین کی طرح سیاسی انقلاب کی ضرورت ہے جو موزے تونگ کی قیادت میں 1949 میں لایا گیا تھا ۔ لیکن ایسا موجودہ پارلیمانی نظام حکومت میں ممکن نہیں، کیونکہ یہ نظام کرپٹ، جاہل اور ان پڑھ سیاستدانوں کا گڑھ بن گیا ہے. پاکستان میں صدارتی نظام حکومت کی تیاری اس سلسلے کی ایک کڑی ہے. عمران خان اصلاح کی کوشش کر رہا ہے. لیکن ملک معاشی طور پربد حال ہے اور کوئی جادو کی چھڑی کسی کے پاس نہیں کہ ایک دم پاکستان اس معاشی بدحالی سے نکل سکے. عمران خان اپنی پارٹی کے اندر اصلاحات بھی کر رہا ہے کئے ایک وزرا کو فارغ بھی کیا ہے. لیکن انہیں پھر بھی پارٹی کے اندر سے بھی چیلنجز کا سامنا ہے. سب سے زیادہ مخالفت زرداری لیگ اور نواز لیگ کی طرف سے ہے جو عمران خان کے اٹھاۓ گئے اچھے کاموں کی بھی صرف سیاسی بنیاد پر مخالفت پر تلے ہوئے ہیں. مدارس کو قومی دھارے میں لانا اور انکے لئے نصاب مرتب کرنے کی ذمہ داری وزارت تعلیم کے سپرد کرنا بہترین اقدام ہے. ہمیں اسکی حمایت/تعریف کرنی چاہیے. صدارتی نظام حکومت کی تشکیل اگر سیاسی طور پر نہیں ہوا تو پھر فوجی ڈنڈے سے ہوگا اور یہ کام IK کے موجودہ دو سے پانچ سالوں میں ہی ہوگا. پھر پاکستان کے کرپٹ سیاست دانوں، جاگیر داروں اور لٹیروں کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو انقلاب چین کے وقت ہوا تھا. پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جسمیں ترقی، خوش حالی اور کامیابی ہوگی. پاکستان کا شمار دنیا کے اچھے ملکوں میں ہوگا. اگرIK کے دور میں ایسا نہیں ہوجاتا ہے تو پھر پاکستان کا خدا حافظ ہی ہے. تین ، تین ، چار، چار بار آزمائے ہوئے پارٹیوں کو پھر آزمانا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے. جو لوگ ابھی بھی زرداری اور نواز شریف کو اپنا لیڈر سمجھتے ہیں انکی سوچ پہ حیرت ہوتی ہے اور افسوس ہی کیا جاسکتا ہے. میں ایک نیوٹرل انالسٹ ہوں میرا تعلق کسی بھی پارٹی سے نہیں ہے۔ میرے تجزیے کو کسی بھی سیاسی یا گروہی آنکھ سے نہ دیکھا جائے.
رات کو کاٹنا ہوتا ہے سحر ہونے تک
بیج کو چاہیے کچھ وقت شجر ہونے تک (باصر)

ارشد شیدائی..

Wednesday, January 30, 2019

More than one acceptance letters:



Why do people advertise after getting acceptance letters? Getting an acceptance letter does not guarantee admission. It is one step of admission at most of the Universities (while many universities do not require an acceptance letter). 
Remember a person gets one admission/scholarship in one university then why more acceptance letters? 
When a person gets more than one acceptance letters for example 6 acceptance letters he/she is actually wasting 5 seats/scholarships in 5 Universities (Labs). I met many professors in China, they told me that Pakistani students get more than one acceptance letter, but at the time of admission he/she goes to another university and our PhD/MS position remains vacant. When we (professors) give acceptance letter to a person considering vacant position/s in our Lab, we do not give acceptance letter to another person for the same position, but at the end when the student opts another university our PhD/MS position remains vacant. That is the reason we (professors) avoid giving an acceptance letter to the Pakistani students.

Those getting more than one acceptance letters are actually
  • Wasting the chances of admission/scholarships of other students.
  • Wasting the position in the concerned university for example if a person is getting 3 acceptance letters, 2 positions in two universities are wasted.
  • Pakistani students are losing trust in the eyes of Professors and also damaging the Image of Pakistan.
  • Getting more than one acceptance letter is actually a sort of cheating.
  • Discourage this trend of getting more acceptance letters in this way maximum students will get the chances of admission/scholarships.





Arshad Shedayi 

Wednesday, January 23, 2019

خود کشی کی وجوہات اور معاشرہ

وقار احمد صاحب کی خود کشیوں کے حوالے سے بنائی ہوئی ڈاکومنٹری دیکھی. وقار احمد نے اس حوالے سے اپنا فرض نبھا یا ہے. خود کشی کے حوالے سے کچھ باتیں میرے ذہن میں آرہی ہیں.
خود کشیوں کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے. بلکہ مختلف وجوہات کی بنا پر ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں. ہر خود کشی کی الگ وجہ یا وجوہات ہوسکتی ہے.
(١) معاشرے میں بڑھتے ہوئے تعلیمی مقابلے کا رجحان.. اس زمن میں سکول سے لیکر یونیورسٹی تک مقابلہ اور پھر اس مقابلے میں ٹاپ نہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ایک اہم وجہ ہے . بچوں کو پوزیشن کی بجائے سمجھ کر پڑھنے کو اہمیت دی جانی چاہیے.
(٢) معاشی حالات اور مقابلہ..دوسری وجہ معاشرے میں کچھ لوگوں کا راتوں رات امیر بن جانا اورجائداد کی غیر ضروری نمودونمائش اور اسکی وجہ سے محنت مزدوری کرنے والے افراد کے بچوں کا احساس کمتری میں مبتلا ہونا بھی ہے.
(٣) مذہبی تعلیمات، عبادات اور روحانیت سے دوری بھی ایک اہم وجہ ہے. عبادت اور دعا بندگی انسان کو روحانی اور ذہنی سکون کا سامان مہیا کرتے ہیں جب کہ بہت سے نوجوانوں کی مذہبی تعلیمات اورسرگرمیوں سے دوری کی وجہ سے ان میں برداشت، صبر، حوصلہ اور امید کی کمی پائی جاتی ہے
(٤) محبت میں ناکامی: سوشل میڈیا کی وجہ سے اب کسی سے کنٹیکٹ کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا ہے ، لیکن بہت سے نو جوان محبت میں دھوکہ کھانے یا پھر پسند کی شادی نہ ہونے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں اور انتہائی اقدام اٹھاتے ہیں. بعض اوقات جب ایسے واقعات منظر عام پہ آجاتے ہیں تو نوجوان لڑکیاں گھر والوں کے خوف سے، اور معاشرے میں بدنامی کے خوف سے انتہائی اقدام اٹھانے پہ مجبورہو جاتی ہیں
(٥) خود کشی کے نام پر قتل:علاقے کے قبائلی رواج کی وجہ سے بعض اوقات غیرت کے نام پر قتل ہونے والے واقعات کو خود کشی کا نام دیا جاتا ہے
(٦) سوشل میڈیا کا غلط استعمال: دیہاتی ماحول میں سمجھ بوجھ کے بغیر انٹرنیٹ کا غلط استمعال بچوں کے اندر ایسے خواھشات کو جنم دے رہا ہے جو در حقیقت انکے پہنچ میں نہیں اور ایسی خواہشات اصل مقصد سے دوری کے علاوہ بےراہ روی کا باعث بھی بن جاتے ہیں.
(٧) رہنمائی اور تربیت کی کمی : اس زمن میں والدین کو چاہئے کی وہ اپنے بچوں کو غیر ضروری مقابلے میں ڈالنے کی بجائے بچے کی صلاحیت اور شوق کے مطابق اگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کرے. کم نمبر لینے یا ناکام ہونے کی صورت میں بھی بچے کو حوصلہ دیدے، نہ کہ انکی حوصلہ شکنی کرے.
(٨) اداروں کی مایوس کن کار کردگی: ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات کی ذمداری مطلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے جو کہ وہ مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں. کیریئر کے حوالے سے آگاہی کے پروگرام، والدین کی رہنمائی اور ایسے واقعات کے سدباب کے لئے مطلقہ اداروں کو فعال کارکردگی دکھانے کی اشد ضرورت ہے.
(٩) حکومت وقت اور سماجی بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے. اس زمن میں سب سے پہلے کوالیفائیڈ کثیر الشعبہ جاتی محققین کی ایک ٹیم تشکیل دی جانی چاہیے جو مجموعی طور پر ایک وسیع تحقیق کے ذریئے خود کشی کے بنیادی وجوہات اور اسباب کی تہ تک پہنچے اور سدباب کے لئے سفارشات مرتب کرے.
(١٠) اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر سر انجام دینے کی ضرورت ہے ورنہ ایسے مسائل کے شکار بہت سے نوجوان اپنی زندگیوں کا یونہی چراغ گل کرتے رہینگے اور باقی سب انگشت بہ دنداں.

ارشد علی شیدائی