ارشد شیدائی
گلگت ٢٠ مئی ٢٠٢٠
کتنے دکھ جیلے ہیں ہم نے زمانے میں
کۓ سال گزرے انہیں ہمیں آزمانے میں
ہم نے وہ چیز پالی ہے بالا آخر
جو نہیں ملتی باد شاہ کے خزانے میں
جو کہنا ہے سادہ لفظوں میں کہ ڈالو
حقیقت کو نہ چھپاؤ کسی فسانے میں
صدیاں لگ جاتی ہیں تعمیر ملت میں اور
چند ساعتیں درکار ہوتی ہیں آگ لگانے میں
عہدے شہرتیں دنیا میں ملتے رہیں گے
لوگ مصروف ہوں گے تجھے گرانے میں
ہم بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے روٹھ جانے میں
اور وہ بھی دیر نہیں لگاتا ہمیں منانے میں
No comments:
Post a Comment