Sunday, August 30, 2020
Wednesday, June 10, 2020
Monday, June 1, 2020
صدائے دل کا اتنا بھی اثر کہاں ہے
جو چاہے ملے ایسا مقدر کہاں ہے
جھوٹ، دھوکہ، رشوت اور سفارش
یہ سب تو ہیں، انصاف مگر کہاں ہے
ضمیر بکتا ہے یہاں ووٹر نامدار کا
ووٹر کا خیال رکھے وہ رہبر کہاں ہے
منافقت پھیلی ہے ہر سوں جدھر دیکھو
باہر سے جو دکھتا ہے وہ اندر کہاں ہے
مایوسی جسکی مقدار ہے ہائے غربت
تاریک رات ہی ہے امید سحر کہاں ہے
جہالت اور نفرت تو پھیلائی جا رہی ہے
جو درس محبت دے وہ دانشور کہاں ہے
فرقہ واریت و تعصب کا درس عام ہے
امن و آشتی ملے جہاں وہ منبر کہاں ہے
تلاش میں جسکی در بدر پھرتا ہے شیدائی
خلوص جہاں سے ملے وہ در کہاں ہے
ارشد شیدائی
Subscribe to:
Posts (Atom)



























