Thursday, April 23, 2020

سچ کی طاقت
ارشد اے شیدائی 

راستی سیدھی سڑک ہے اس میں کچھ کھٹکا نہیں 
کوئی رہرو  آج تک  اس راہ  میں  بھٹکا  نہیں

سچ ایک تناور اور سایہ دار درخت ہے جسکی چاؤں میں انسان ہمیشہ محفوظ و مامون رہتا ہے. حوادث کی غم خیز آندیاں اس درخت کی سلامتی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتیں. سچ انسانیت کا جوہر ہے.  یہ  نہ طاقت سے دبتا ہے نہ زندان میں قید ہوتا ہے. سچائی کے سبھی مبلغین نے چھوٹے سے چھوٹا جھوٹ بولنے سے بھی منح کیا ہے. حضرت عبدللہ بن عمر کی روایت سے حضور اکرم (ص۔ع ) کی یہ حدیث قابل غور ہے کہ "جب کوئی انسان جھوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس جھوٹ کی وجہ سے اس سے دور رہتے ہیں". مشاہدات نے ثابت کیا ہے کہ ہر زمانے اور ہر معاشرے میں سچ کی مخالفت کرنے والے کچھ عناصر ضرور ہوتے ہیں مگر انسان کو گھبرانا نہیں چاہئے. آخر جیت سچ ہی کی ہوتی ہے. انسانی کردار کی سب سے بڑی دولت سچ ہے. مگرانسان جھوٹ کے ہاتھوں اس دولت کو لوٹا کرخود کو کنگال بنا دیتا ہے. افلاس و تہی دامنی کی یہ سب سے بڑی قسم ہے- 
سچائی کے راستے پہ چلتے رہو 
صدا  پھولتے اور  پھلتے  رہو 
ایک قافلہ کہیں جا رہا تھا. راستے میں ڈاکوآ ئے اور قافلے  کے سارے مال و اسباب، سونا سب کچھ چھین لیا. اسی قافلے میں ایک چھوٹا سا لڑکا بھی تھا. ایک ڈاکو اس لڑکے کے پاس آیا اور پوچھا بتاؤ تمہارے پاس کیا ہے ؟ لڑکے نے جواب دیا " میرے پاس ٢٠٠ روپے ہیں " ڈاکو نے اعتبار نہیں کیا اور چلا گیا. دوسرا ڈاکو آیا اور پوچھا تو لڑکے نے یہی جواب دیا. ڈاکو لڑکے کو اپنے سردار کے پاس لے گیا اور بولا کہ جناب عالی یہ لڑکا جھوٹ بولتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے پاس ٢٠٠ روپئے ہیں. سردار نے پوچھا بتاؤ تمہارے پاس کیا ہے؟ بولا جناب میرے پاس٢٠٠ روپئے  کپڑوں میں سلے ہوئے ہیں. ڈاکو نے تلاشی لی اور جیب سے ٢٠٠ روپئے نکال لئے. سردار حیران رہ گیا اور لڑکے سے پوچھا تم نے اپنے روپے کیوں نہیں چھپا لیا ؟ اور سچ کیوں کہا. لڑکا بولا میری والدہ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ بیٹا تم کبھی بھی جھوٹ نہ بولنا، اس لئے میں نے جھوٹ نہیں بولا. سردار دائر تک سوچتا رہا، پھر توبہ کیا اور کہا کہ یہ چھوٹا بچہ اپنی ماں کا حکم کس طرح بجا لاتا ہے. جبکہ ہم اپنے خدا کا حکم نہیں مانتے ہیں اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں. آج کے بعد میں بھی اپنی اس بری عادت کو ختم کروں گا. اس نے قافلے سے چھینے ہوئے تمام مال انہیں واپس کر دئیے. یہ ہے سچ اور یہ ہے اس کا پھل.
شیر دل بن جاؤ تم راستی اختیار کر کے 
شیریں زباں بن کے اوروں کو سرشار کر کے 
راستی کو شیوہ بنا اے شیدائی آپ اپنا 
دل میں بہار کر خدا کو مدد گار کر کے

نوٹ: سکول کے زمانے کا لکھا ہوا یہ مضموں اپنےقارئین کی نظر ہے          

No comments:

Post a Comment