Tuesday, April 28, 2020


آج پھر  کیوں چھا ئی یہاں اداسی ہے 
ٹھنڈی شام، اندھیرا اور خاموشی ہے

کس کو فکر ہے انسانوں کے جنگل میں 
دشت ویران میں پھر ایک کلی پیاسی ہے  

مال و زر سب یہاں آنی جانی چیزیں ہیں
جستجوئے علم اچھا جو دولت  لافانی ہے 

غروروتکبراوقات بتاتی ہیں کسی  کی بھی 
عجزوانکساری ہی عظمت کی نشانی ہے

یہ وقت بھی آخر گزر جائے گا شیدائی 
کہتے ہیں ہر مشکل کے بعد آسانی ہے

ارشد شیدائی
4/5/2019
Beijing 

No comments:

Post a Comment