آج پھر کیوں چھا ئی یہاں اداسی ہے
ٹھنڈی شام، اندھیرا اور خاموشی ہے
کس کو فکر ہے انسانوں کے جنگل میں
دشت ویران میں پھر ایک کلی پیاسی ہے
مال و زر سب یہاں آنی جانی چیزیں ہیں
جستجوئے علم اچھا جو دولت لافانی ہے
غروروتکبراوقات بتاتی ہیں کسی کی بھی
عجزوانکساری ہی عظمت کی نشانی ہے
یہ وقت بھی آخر گزر جائے گا شیدائی
کہتے ہیں ہر مشکل کے بعد آسانی ہے
ارشد شیدائی
4/5/2019
Beijing
No comments:
Post a Comment