Saturday, October 2, 2021

گلگت-بلتستان میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے اسباب

   

گلگت-بلتستان میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے اسباب 

 

ڈاکٹر ارشد علی شیدائی 


گلگت-بلتستان میں آئے روز خود کشیوں کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے. روز خود کشی کا کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا ہے. ان خود کشیوں کی بہت سی وجوہات ہیں جن پر تفصیلی تحتیق کی ضرورت ہے. خودکشیوں کی کچھ نمایاں وجوہات درج ذیل ہیں

 غربت: معاشرے میں دولت کا عدم توازن غریب غریب تر اور امیر امیر تر بنتا جا رہا ہے. غریب کے بچوں میں احساس محرومی بڑھتی جا رہی ہے اور روزمرہ کے کام سر انجام نہیں دے سکتے ہیں. روٹی، کپڑا، چھت میسر    نہیں اور تعلیم سے محروم غریب افراد جینے کی بجاۓ مرنے کو ترجیح دیتے ہیں 

 غیر ضروری خواہشات: معاشرے میں نمودو نمائش بڑھ رہی ہے. موبائل، لیپ ٹاپ، موٹر، کار، مہنگے کپڑے جوتے اور زیورات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے.. امیر زادے ان تمام چیزوں کی نمائش کرتے ہیں اور غریب گھرانے کے بچے ان اشیا کا تقاضا اپنے غریب والدین سے کرتے ہیں جو کہ وہ یہ ضروریات/خواہشات پوری نہیں کر سکتے اور جذباتی بچے خود کشی کرتے ہیں 

محبت/دوستی اور پسند کی شادی: نو عمر بچے (لڑکے اور لڑکیاں) اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں یا محلے میں ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے ہیں اور جذباتی طور پر ایک دوسرے کے بہت قریب آجاتے ہیں. وہ چونکہ جذباتی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر جینا محال سمجھتے ہیں. ایسے میں اگر لڑکا یا لڑکی کی طرف سے بیوفائی ہوجاۓ یا پھر وہ شادی کرنا چاہے مگر انکے والدین راضی نہ ہوں تو ایسے جذباتی بچے محبت میں ناکامی یا پسند کی شادی نہ ہونے سے خود کشی کرلیتے ہیں. بعض اوقات جب کبھی ایسی دوستیوں کا دوسرے لوگوں کو یا رشتہ داروں کو پتہ چل جاتا ہے تو معاشرے میں بدنامی کے خوف سے خود کشی کی جاتی ہے

غیرت کے نام پر قتل: بہت سی خودکشیاں دراصل غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہیں اور خود کشی کا نام دیا جاتا ہے. یہ کام لڑکی کے رشتہ دار اور والدین لڑکے کو قتل کر کے سر انجام دیتے ہیں. بہت دفعہ لڑکی کے اپنے والدین معاشرے میں بدنامی سے بچنے کے لئے اپنی بیٹی کو قتل کر دیتے ہیں اور بعد میں خود کشی ظاہر کرتے ہیں. ایسے واقعات بہت ہوتے ہیں 

 گھریلو ماحول، حالات اور سماجی روایات: بہت دفعہ سخت گھریلو ماحول اور حالات بھی گھر کے بّہو اور بعض اوقات بیٹی اور بیٹےکو خودکشی پر مجبور کرتے ہیں. میاں-بیوی میں ہم آہنگی کا نہ ہونا، سسرال یا والدین کا ظلم و ستم، انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں. معاشرے کے اندر میاں بیوی میں علاحیدگی کو بہت ہی معیوب عمل سمجھا جاتا ہے. اور بہت دفعہ والدین اپنی بیٹیوں کو کہتے ہیں کہ جتنا بھی ظلم ہو برداشت کرنا ہے اور طلاق لینے سے بہتر ہے کہ تم وہی پر مر جاؤ. ایسے حالات میں بہت سی شادی شدہ خواتیں ظلم و ستم سے تنگ آکر خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں

گریڈ، نمبرات اور پوزیشنز کے لئے دوڑ: اکثر والدین اپنے بچوں کو تنبیح کرتے ہیں کہ وہ امتحان میں پہلی، دوسری یا تیسری پوزیشن حاصل کرے یا ، 80, 90% نمبرات حاصل کرے ورنہ وہ انکو اسکول سے نکال دیں گے یا انکا جیب خرچہ بند کر دیں گے یا کوئی اور سزا دیں گے. اور ضروری بات ہے کہ ہر بچے کے سمجھنے کا اپنا الگ معیار ہوتا ہے. امتحانات میں نمبرات کی اس دوڑ کی وجہ سے بہت سے بچے خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں. تعلیم کا مقصد صرف زیادہ نمبرات حاصل کرنا ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ تعلیم کا مقصد اچھی سمجھ، جائزہ لینا، پرکھنا اور اور پھر اس علم کا مثبت استعمال ہوتا ہے. اور تعلیم و تربیت کا بنیادی مقصد معاشرے کا  ایک اچھا فرد بنانا اور بچے کی دلچسپی اور مہارت کے مطابق ایک  کامیاب لیڈر بنانا ہونا چاہئے نہ کہ رٹا لگا کر زیادہ نمبرات لینا.  اور ہاں وہ بچے لائق تحسین ہیں جو سمجھ کر پڑھتے ہیں اور نمبرات بھی زیادہ حاصل کرتے ہیں اور پوزیشنز بھی حاصل کرتے ہیں. لیکن وہ بچے جو کسی وجہ سے کم نمبراتحاصل کرتے ہیں وہ بھی برابر داد و تحسین کے مستحق ہیں. آج نہیں تو کل وہ کسی نہ کسی شعبے میں اپنا لوہا منوا لیں گے. اس معاملے میں تعلیمی اداروں کو بھی اپنا رول ادا کرنا ہوگا. سال کے آخر میں یا سیمسٹر کے آخر میں سمیٹیو اسسسمنٹ پر انحصار کم سے کم  کر کے  فارمیٹیو  اسسسمنٹ  جس میں جامع شخصیت کی نشوونماکو جانچا جاتا ہے کے ماڈل کو اپنانا ہوگا. ہمیں بچوں کو صرف نمبرات حاصل کرنے کی مشین بنانے کی بجاۓ انکو معاشرے کا سمجھدار، ذمہ دار اور کامیاب افراد بنانے کی کوشش کرنی چاہئے

مذہبی اقدار سے دوری: آجکل کے اس مادیت پسند دور میں جہاں بچے موبائل، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا استعمال تعلیمی اور تعمیری مقاصد کے لئے کرتے ہیں وہاں پر بہت سے بچے انکے غلط استعمال کی وجہ سے بے راہروی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اور وہ اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں. منفیسرگرمیوں کی وجہ سے وہ بے راہروی  کا شکار ہورہے ہیں. مذہب سے دوری اور غلط دوستوں کی صحبت ایسے بچوں کو خود پسند اور شر پسند بنا دیتا ہے. ایسے بچے جب  مشکل وقت آجاتا ہے تونہایت پریشان ہو جاتے ہیں مشکلات کا مقابلہ سوچ سمجھ اور ہمت سےکرنے کی بجاۓ ایسے بچے تنہائی کا شکار ہو کر خود کشی پرمجبور ہو جاتے ہیں. ایسے میں ان بچوں کو اس بات کا علم و احساس نہیں ہوتا ہے کہ خودکشی حرام ہے. مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے محنت، عزم، حوصلہ و ہمت کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت اور دعا و بندگی بھی ضروری ہے. والدین کی فرمانبرداری اور معاشرے میں آنریری خدمت، دوسروں کی مدد اور بھائی چارگی کے ساتھ رہنے کا شعور اور جذبہ بھی ضروری ہے

عزیز و اقارب کے ساتھ خیالات کا تبادلہ: اس مادیت پسند دنیا میں آجکل قریبی رشتوں میں دوریاں بڑھ گئی ہیں. بچے اور والدین اپنے اپنے کمروں میں مصروف رہتے ہیں. موبائل اور انٹرنیٹ نے اس دوری کو بہت بڑھا دیا ہے. بچے زیادہ تر وقت موبائل پر سوشل میڈیا، گیمز، موویز یا اور مواد دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں. انکے پاس والدین، بہن بھائیوں  کے ساتھ بیٹھ کر اپنے روزمرہ کی چیزیں بیان کرنے اور ہنسی خوشی میں شریک ہونے کا وقت نہیں ہوتا ہے. جسکی وجہ سے والدین اور بچوں میں دوریاں بڑھ گئی ہیں. اور بچے سوشل میڈیا کی دنیا میں گم رہتے ہیں جسکی وجہ سے نہ صرف انکے وقت کا زیاہ ہوتا ہے بلکہ وہ تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں. اس کمیونیکشن گیپ کی وجہ سے وہ اپنی اندر کی پریشانیوں کو اپنے قریبی عزیزو اقارب (والدین، بہن بھائی اور دوست ) تک نہیں پہنچا پاتے ہیں اور وہ مسائل کا حل ڈھونڈنے کی بجاۓ خودکشی کا انتہائی قدم اٹھاتے ہیں جو کہ نہایت ہی افسوسناک عمل ہے. رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی ضرورت ہے

 سماجی، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیاں:   آجکل علاقائی رسم و رواج ختم ہوتے جا رہے ہیں. پہلے گلگت-بلتستان کے ہر علاقے میں اپنے اپنے رسم و رواج اور تہوار لوگ  بڑے شوق اور جذبے کے ساتھ مناتے تھے جسکی وجہ سے گاؤں میں لوگوں کے درمیاناخوت اور بھائی چارے کی اقدار فروغ پا رہا تھا. آجکل یہ ثقافتی تہوار ختم ہوتے جا رہے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو مثبت سرگرمیوں کا موقع نہیں ملتا ہے، بھائی چارگی کم ہو رہی ہے اور ساتھ ساتھ یہ ثقافتی تہوار بھی   اپنا وجود کھو رہے ہیں. پرانے زمانے میں گاؤں میں مختلف قسم کے دیسی کھیل بچوں میں مشہور تھے جیسے گولی ڈنڈا، باسریا، رابٹ، ساپوک، قیردنگ، ڈوکے، چھارئے، بولہ، فٹ بال، والی بال وغیرہ ان میں سے بہت سے کھیل آجکل معدوم ہوچکے ہیں اور آجکل کے بہت سے بچوں کو ان کھیلوں کا علم بھی نہیں ہے. اسکی وجہ دیسی اور علاقائی کھیلوں اور تہوارات کو محفوظ کرنے کے لئے انتظام کا نہ ہونا اور پھر ملکی سطح پر کرکٹ کی مشہوری کی وجہ سے بچوں کا رجحان تبدیل ہونا ہے. ان جسمانی ورزشی کھیلوں کی جگہ آجکل بچے  ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں اور زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر یا پھر ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے صرف کرتے ہیں. جسمانی ورزشی کھیل نہ صرف جسمانی نشو نما کے لئے ضروری ہیں بلکہ ذہنی سکون، ورزش اور اندر کی مایوسی اور غصہ کو نکال پھینکنے کے لئے بھی ضروری ہے. بچوں کو روزانہ ایک گھنٹہ کوئی جسمانی ورزشی کھیل کھیلنا چاہئے یا پھر ایک گھنٹہ دوڑ یا واک کو معمول بنانا چاہئے. ایک صحت مند جسم ایک صحت مند دماغ اور روح کے لئے ضروری ہے 

خوراک اور ماحولیات کے اثرات: گلگت-بلتستان ایک پہاڑی علاقہ ہے. یہاں کے باسی جہاں بہت  مہمان نواز، بہادر، خوش اخلاق اور عزت دار ہیں وہاں یہ جذباتی بھی بہت ہیں. پہاڑوں کی اپنی خاصیت ہے یہ دھوپ پڑنے سے جلد گرم ہوتے ہیں اور رات کو ایک دم  ٹھنڈے ہوجاتے ہیں. پہاڑوں کی یہ خاصیت یہاں کے باسیوں میں بھی پائی جاتی ہے. گلگت-بلتستان میں سردیوں میں سخت ٹھنڈ اور موسم گرما میں گرمی بھی زیادہ ہوتی ہے. ان انتہائی موسمی عوامل کا بھی لوگوں کے طرز عمل پر اثر ہوتا ہے. بعض اوقات چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بحث و تکرار، لڑائی اور جگھڑا چھڑ جاتی ہے. پہاڑی علاقے کے رہنے والے لوگ گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں جو کہ پروٹین کی مقدار اس میں زیادہ ہوتی ہے اور یہ گوشت، گھی اور مرغن غذائیں جسمانی نشونما میں تبدیلی کے ساتھ  ہارمونز کے عمل کو بھی تیز کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے جذباتی عدم توازن،  برداشت میں کمی، غصہ میں زیادتی جیسے عوامل رونما ہوتے ہیں. تحتیق سے پتا چلا ہے کہ یہاں پرعدم برداشت، بے چینی، ذہنی دباؤ ،ہائی بلڈ پریشر، فالج، دل کا دورہ اور برین ہیمرج جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں. لوگوں کو متوازن غذائیں کھانے کی ضرورت ہے اور زیادہ سے زیادہ سبزیاں اور پھل فروٹ کھائے. نمک، چینی، تیل، گھی جن سے  کولیسٹرول زیادہ ہوجاتا ہے، کم استعمال کرے


Wednesday, June 10, 2020


ہم وہ قطرہ لافانی  کہاں کہ یارو ہم 
کہیں سوکھ نہ جائے سمندر ہونے تک

اب ایسا بھی ممکن نظر نہیں آتا  کہ  
ان سے باتیں کرے سحر  ہونے تک

وہ  کسی لالچ میں کہیں بک جائے گا 
ہمارے خلوص کا ان پہ اثر ہونے تک

عارضی دوستی اورمطلب کا رشتہ ہے
کب کسی نے ساتھ دیا ہے آخر ہونے تک 

Monday, June 1, 2020


صدائے دل کا اتنا بھی اثر کہاں ہے 
جو چاہے ملے ایسا مقدر کہاں ہے

جھوٹ، دھوکہ، رشوت اور سفارش 
یہ سب تو ہیں، انصاف مگر کہاں ہے 

ضمیر بکتا ہے یہاں ووٹر نامدار کا   
ووٹر کا خیال رکھے وہ رہبر کہاں ہے

منافقت پھیلی ہے ہر سوں جدھر دیکھو
باہر سے جو دکھتا ہے وہ اندر کہاں ہے 

مایوسی جسکی مقدار ہے ہائے غربت 
تاریک رات ہی ہے امید سحر کہاں ہے

جہالت اور نفرت تو پھیلائی جا رہی ہے 
جو درس محبت دے وہ دانشور کہاں ہے   

فرقہ واریت و تعصب کا درس عام  ہے 
امن و آشتی ملے جہاں وہ منبر کہاں ہے

تلاش میں جسکی در بدر پھرتا ہے شیدائی 
خلوص جہاں سے ملے وہ در کہاں ہے 

ارشد شیدائی    


کوئی تو ہو جنکا ایک نرالا انداز ہو 
جنکی دوستی پر ہمیں فخر ہو ناز ہو
کوئی تو ہو جنکو دوستی کا احساس ہو 
اوردکھ سکھ کے لمحوں میں وہ پاس ہو 
تنہا کھٹن راستوں پر جب رخت سفر ہوں  
کوئی تو ہو جنکی موجودگی کا احساس ہو
کوئی تو ہو جن سے خیالوں میں باتیں کرے 
وہ یہ سب جانتا ہو اور جو حقیقت شناس ہو 

Thursday, May 28, 2020

لوگ


ہائے یہ غربت کے مارے لوگ 
یہ ہمارے پیارے پیارے لوگ

انتخابات میں پھراستعمال ہونگے 
کتنے سادہ ہیں یہ ہمارے لوگ 


ارشد شیدائی      

غربت


جینا ہے تو غربت کو مٹا کر جیو 
دہرسے جہالت کوبھی ہٹا کر جیو

کر کے ناداروں کی کوئی خدمت 
دنیا میں تھوڑی نیکی کما کر جیو 


ارشد شیدائی    

ایٹم بم یا خوش حالی

 ایٹم بم بھی بناؤ تم 
شہرت بھی کماؤ تم 
ایک بات سمجھاؤ تم
پھر جشن بھی مناؤ تم 

کیا غربت ختم ہو گئی ہے 
خودکشی کم ہو گئی ہے
اور ترقی آدم ہوگئی ہے
تعلیم بھی فراہم ہو گئی ہے

نہیں توتم پھرسوچ  لینا 
خود کو دیا ہے دھوکا
ایک دن کا کیا دھماکا 
پھرغربت کا رونا رونا  

ارشد شیدائی 
اپریل ٢٨ ٢٠٢٠

Monday, May 25, 2020


امن سے یہ زندگی ہے 
امن سے ہر خوشی ہے 
امن سے ہی ترقی ہے 
امن میں وہ روشنی ہے 

امن ایک لازوال دولت 
امن ہی بے مثال طاقت 
امن الله کی ہے نعمت 
دعا ہے رہے یہ رحمت

امن کی نعمت کو ہاتھ سے جانے نہ دینا 
پھر سے دھرتی میں خون بہانے نہ دینا

پہلےایسی آزمائشوں سے گزرے ہیں بہت
پھر کسی سازش کو یہاں آزمانے نہ دینا

صبر، برداشت، احترام و برد باری سے 
امن کی روشنی کو یہاں بجھانے نہ دینا


ارشد شیدائی

ارشد علی شیدائی 

کہتے ہیں لوگ دنیا میں محبت فضول ہے 
 جن سے بچھڑنا ہو ان سے الفت فضول ہے 

رہنا ہے تو سبوں سے مروت سے رہو 
اس دو دن کی دنیا میں کدورت فضول ہے 

معیار ایک نہ ہو تو اسکی جستجوں  پھر کیوں ؟
جو چیز لا حاصل ہو اسکی چاہت فضول ہے 

ظاہری خدوں خال سے معیار کو یوں مت پرکھو 
نہ ہو سیرت اچھی تو پھر صورت فضول ہے 

ہو جائے زلف گیرہ گیر اس جہاں میں گرکوئی
ایسے عاشقوں کے لئے تو قیامت فضول ہے 

ملنی ہے تو ملے آسائشیں عمر بھر کے لئے 
 ایک دن کے لئے ملے ایسی راحت فضول ہے  

 ہے جو کچھ تمہارے پاس وہ نیکی میں کم آئے
جو مبتلائے غرور کرے ایسی دولت فضول ہے

ترک تعلق کی بات سے شیدائی وحشت فضول ہے 
جو بت بات پہ بگڑے ایسی طبیت فضول ہے 

Wednesday, May 20, 2020


کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے
عہدوں کی بھی بڑی ذمہ داری ہے

پرفائدے میں صرف وہی رہے گا
جسکا انتخابات میں پلہ بھاری ہے

ارشد شیدائی

ارشد شیدائی 

گلگت ٢٠ مئی ٢٠٢٠

کتنے  دکھ  جیلے ہیں ہم  نے زمانے میں
 کۓ  سال  گزرے  انہیں ہمیں آزمانے میں

 ہم نے وہ  چیز  پالی  ہے  بالا آخر
 جو نہیں ملتی باد شاہ کے خزانے میں

جو  کہنا ہے سادہ لفظوں میں  کہ ڈالو
 حقیقت کو نہ چھپاؤ  کسی  فسانے  میں

 صدیاں لگ جاتی ہیں تعمیر ملت میں اور 
 چند ساعتیں درکار ہوتی ہیں آگ لگانے  میں

 عہدے شہرتیں دنیا میں ملتے رہیں گے 
 لوگ  مصروف ہوں گے  تجھے گرانے میں

ہم بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے روٹھ جانے میں 
اور وہ بھی دیر نہیں لگاتا ہمیں منانے میں  


Sunday, May 17, 2020


مرشد کا بغض، ہماری جدوجہد اور الله کی مدد 

 تم نے ہر اک راستہ ہمارا بند کر دیا تھا مرشد 
مثل بیج زمین بوس ہوکر خود کو نکھارا ہے 

کہدو زمینی خداؤں سے ہم ابھی کھل گئے ہیں 
وہ دور تمہارا تھا اے مرشد، یہ دور ہمارا ہے 

تم اگر مسائل میں ڈوب  گئے ہو توبھی  کیا ہوا  
تیراک  کے لئے تو سمندر میں بھی کنارا ہے 

زمانے کے حوادث کا مقابلہ کرنا سیکھو دوستو 
ہم نے بھی کئی بار مرجھا کر خود کو سنوارا ہے 

اللہ  تیرا لاکھ  لاکھ  شکر ادا کرتا ہے یہ شیدائی
سہل کر دیا ہر مشکل جب بھی تجھے پکارا ہے 

ارشد شیدائی 
گلگت (١٧/٠٥/٢٠٢٠) 

Monday, May 11, 2020

ڈاکٹر کی عدم موجودگی اور ایک ماں کی پریشانی (ایک سچی کہانی)

تحریر: ڈاکٹرارشد علی شیدائی

یہ ایک سرکاری ہسپتال تھا، یہاں ایک وقت صرف ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہوتا تھا. ہسپتال کی بڑی عمارت میں ایک عجیب کیفیت تھی. ہر طرف سے مریضوں کے کراہنے کی آوازیں آرہی تھیں. وہاں پر نہ کوئی ڈاکٹر موجود تھا اور نہ کوئی اور ملازم. باہر سے آتے مریض یا تو واپس لوٹ رہے تھے یا پھر انتظار گاہ کی جانب قدم بڑھا رہے تھے. جہاں وہ شدت سے ڈاکٹر کے آنے کا انتظار کر رہے تھے.

ہمیں اس انتظار گاہ میں بیٹھے کوئی ایک گھنٹہ ہو گیا تھا. جب ہم ہسپتال میں پہنچے تھے تب ایک ملازم وہاں پر موجود تھا. ان سے ڈاکٹر کے بارے میں پوچھا تو پتا لگا کہ ڈاکٹر تو ١٢ سے ٢ بجے تک چھٹی کر لیتے ہیں. یہ خبر سن کر ہم ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور آخر ایک فیصلہ کر کرکے انتظار گاہ کی رہ لی تھی، جہاں پہلے سے کچھ لوگ ڈاکٹر کی انتظار میں مایوس بیٹھے تھے. مریض سسک رہے تھے اور انکی یہ حالت دیکھ کر ہمارے پاؤں تھر تھر کانپنے لگے. انتزاۓ گاہ میں لوگ آتے اور جاتے تھے، ڈاکٹر کی غیر موجودگی کی وجہ سے انکی پریشانی اور بڑھتی جا رہی تھی. باہر سے آئے مریضوں کے علاوہ ہسپتال میں پہلے سے داخل مریض بھی ڈاکٹر کا شدت سے انتظار کر رہے تھے. لوگ وہاں آپس میں چہ میگویاں کر رہے تھے، کہ اچانک ایک آواز زدگوش ہوئی. انتظار گاہ میں خاموشی طاری ہو گئی. لوگ سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کے جانب دیکھنے لگے. آواز قریب ہوتی گئی اور پتا چلا کہ یہ کسی عورت کے رونے کی آواز ہے.

چند لمحے بعد وہ عورت انتظار گاہ میں داخل ہوئی. لوگوں میں تجسس بڑھتا گیا. وہ عورت ابھی تک زارو قطار رو رہی تھی. وہ بہت پریشان اور غمگین تھی. اسکے آنکھوں سے آنسوں رواں تھے. خاتون نے ایک ننھا سا بچہ ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا. آنسووں کے خشک نشان بچے کے چہرے پربھی عیاں تھے. خاتون بہت زیادہ پریشان اورغمگین تھی، وہ کبھی بچے کو پیار کر رہی تھی کبھی انتظار گاہ میں موجود لوگوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی پر کسی سے کچھ نہیں پوچھا اور کبھی ڈاکٹر کے آفس کی جانب امید کی نظروں سے تک رہی تھی. خاتون کسی سے کچھ پوچھے بغیر واپس پلٹی اور ڈاکٹر کے کلینک کے سامنے گئی. ڈاکٹر کی آفس میں غیر موجودگی سے وہ سخت مایوس ہوئی. انتظار گاہ میں موجود لوگ آپس میں اس عورت کے بارے میں باتیں کرنے لگے. لوگوں کی طرح میرے دل میں بھی طرح طرح کے خیالات جنم لینے لگے. مجھے لگا کہ شاید خاتون کو کوئی شدید چوٹ آئی ہوگی اور چوٹ کی شدت برداشت سے باہر ہے جو اس قدر رو رہی ہے. انہیں خیالات میں تھا کہ وہ خاتون واپس انتظار گاہ آئی. انکی پریشانی دیکھ کر میں نے چاہا کہ صاحبہ سے پریشانی کی وجہ دریافت کروں پرہمت نہیں ہوئی. تھوڑی دی بعد خاتون نے خود مجھ سے پوچھا، بھائی ڈاکٹر کہاں گئے ہیں ؟ میں نے کہا کہ ایک ملازم کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر ٢ بجے تک چھٹی کرتے ہیں.

اسی دوران ایک آدمی انتظار گاہ میں داخل ہوا وہ ہسپتال کا کوئی ملازم لگ رہا تھا. میں نے ان سے پوچھا، بھائی ڈاکٹر کب آئے گ؟ اسنے میری طرف حیرت سے دیکھا اور کہنے لگا، جناب ڈاکٹر تو ٤ بجے تک چھٹی کرتا ہے اور ٤ بجے کے بعد دوسرا ڈاکٹرشام کی ڈیوٹی کے لئے آتا ہے. یہ سن کر ہم سب بہت مایوس ہوئے. خاتون حد سے زیادہ پریشان اپنے منھے کو لئے ٹہلنے لگی. ایک عجیب سی بے چینی نے گھیرلیا. عورت کے رونے کی آواز سن کر ساتھ والے کمرے سے ایک بندہ باہر آیا جو ڈاکٹر صاحب کا اسسٹنٹ لگ رہا تھا جو بار بار ڈاکٹر کے کمرے میں جاکر ٹیلی فون اٹینڈ کر رہا تھا. اس نے خاتون کی اس پریشانی کی وجہ سے انہیں کمرے میں بلایا.

چند منٹ بعد وہ خاتوں واپس آئی اور میرے سامنے میز پر بیٹھ گئی . بچہ خاتون کے گود میں تھا اور باتیں کر سکتا تھا، ہم سے بار بار پوچھ رہا تھا، ڈاکٹر کہاں ہے ؟ میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ابھی آنے والا ہے. خاتون اب بھی پریشان تھی مگر رونا تھم گیا تھا. انکے چہرے پر شدید پریشانی عیاں تھی. میں نے خاتون سے پوچھا بہن کیا مسلہ ہے جواتنی زیادہ پریشان ہو؟ وہ کہنے لگی کہ ابھی گھر پر بچہ اپنے کھلونے سے کھیل رہا تھا اچانک فرش پر پھسلا اور گر گیا. بچہ رونے لگا تو دیکھا ایک دانت سے خون نکل آیا ہے. اب اس بچے کو یہاں لے کرآئی ہوں تاکہ اسکا علاج کر وا سکوں. میں نے تعجب سے پوچھا بس اتنی سی بات تھی اور آپ اتنی زیادہ پریشان ہو گئی. وو کہنے لگی، بچے کا زخم مجھ سے دیکھا نہیں جاتا.میرا لخت جگر ہے یہ، اور میں اس کے لئے ہر تکلیف سہ سکتی ہوں. میں اسی کے واسطے جیتی ہوں. میرا جینا اسی کے لئے اور میرا مرنا بھی اسی کے لئے. اس عمر میں اگر بچے کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں کر سکی تو مجھے عمر اسکا دکھ ستائے گا اور کل کو میں جوابدہ ہوں گی. میرا فرض پورا نہیں ہوگا. اسکا درد میرا درد ہے اور اسکا سکھ میرا سکھ.

میں نے خاتون کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ بہن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. بچہ ٹھیک ہے دانت سے اگر تھوڑا خون نکل آیا ہے تو ٹھیک ہو جائےگا. اگر دانت نکل بھی جاتا تو دوسرا دانت نکل آئےگا، کیوں کہ یہ دودھ کے دانت ہیں. بچہ خیریت سے ہے آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ مالک ہے.

مسٹر داوود نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہمیں ٤ بجے تک انتظار کرنا ہوگا. میں نے کچھ سوچ کر کہا کہ ہمیں ابھی واپس جانا چاہئے کل صبح پھرآجائیں گے. ہم وہاں سے نکل گئے مگر خاتون اپنے بچے کو لیکر وہی پرڈاکٹر کے انتظار میں ٤ بجے تک بیٹھی رہی. اسکا بچہ اب ہنس رہا تھا اور ٹہل رہا تھا.

نوٹ : سکول کے زمانے کا لکھا ہوا یہ مضمون اپنےقارئین کی بینائیوں کی نذر ہے۔

Tuesday, April 28, 2020


آج پھر  کیوں چھا ئی یہاں اداسی ہے 
ٹھنڈی شام، اندھیرا اور خاموشی ہے

کس کو فکر ہے انسانوں کے جنگل میں 
دشت ویران میں پھر ایک کلی پیاسی ہے  

مال و زر سب یہاں آنی جانی چیزیں ہیں
جستجوئے علم اچھا جو دولت  لافانی ہے 

غروروتکبراوقات بتاتی ہیں کسی  کی بھی 
عجزوانکساری ہی عظمت کی نشانی ہے

یہ وقت بھی آخر گزر جائے گا شیدائی 
کہتے ہیں ہر مشکل کے بعد آسانی ہے

ارشد شیدائی
4/5/2019
Beijing 



یہ دن بھی گزرجائیں گے 
ہم پھر سے پاس آئیں گے

قدرت کے سب عنایات کا 
ہم مل کے گیت گائیں گے

Saturday, April 25, 2020


سائنسی میدان اور پاکستانی حکمران
تحریر: ڈاکٹر ارشد علی شیدائی
سائنس میں ترقی کے لیے بہترین سائنسی ماحول، معیاری سائنسی تجربہ گاہیں، ماہر افراد، ضروری سہولیات و تجرباتی آلات، زمینی تحقیقاتی مراکز اور خلائی مصنوعی سیارے، تجسس و سائنسی رجہانات، تحقیق کاروں اور سائنسدانوں کے لیے مراعات اور حکومتی پولیسی میں ترجیحات اور عملی اقدامات شامل ہیں۔
کوئی بھی مذہبی یا غیر مذہبی شخص، معاشرہ یا ملک متذکرہ اوصاف کے حامل ہو سائنس میں ترقی اور کمال حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان کے سائنسی ترقی میں پیچھے رہ جانے کی بنیادی وجہ ترجیحات ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں نے کبھی سائنس کو پہلی ترجیح نہیں دی اور آہستہ آہستہ ہم آگے جانے کی بجاۓ تنزلی کا شکار رہے۔ انڈیا سے تو ہم پیچھے ہیں ہی لیکن اب بنگلادیش اور نیپال سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔
چین ایک کمیونسٹ ملک ہے اور جدید چین پاکستان کے بعد آذاد ہوا ہے لیکن سائنسی ترقی میں چین ہم سے کم از کم سو سال آگے ہے۔ اپنی مسلسل جدوجہد، محنت اور سائنسی ترقی کو اپنی اولین ترجیح رکھنے کی وجہ سے، پچھلے بیس سال کے قلیل عرصے میں اپنے ایجادات و مصنوعات کی موثر مارکیٹنگ کرکے آج دوسری سب سے بڑی عالمی طاقت بن کر ابھری ہے اور ترقی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان اس وقت سائنسی اور معاشی میدان میں کہاں کھڑا ہے سب پاکستانیوں کو بخونی پتہ ہے۔ پاکستان کی یہ حالت حکمرانوں کی ناقص پالیسی اور نامناسب قومی ترجیحات ہیں۔ ہمارے حکمران قومی ترقی کی بجاۓ ذاتی منفعت دیکھتے رہے اور ملکی بجٹ ایسے غیر ضروری منصوبوں پہ لگایا جن کا قومی ترقی و خوشحالی سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ جس کی وجہ سے آج پوری قوم دنیا میں رسوا ہو رہی ہے۔ غربت دن بدن بڑھ رہی ہے امیر مزید امیر ہوتا جا رہا ہے اور غریب غریب تر۔
ماضی کے مسلم سائنسدانوں کے سائنسی کارناموں اور خدمات کو اپنے کھاتے میں ڈال کر اترانے اور جتانے والے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے مجاہدوں کو اب خواب غفلت سے جاگ کر حقیقت حال کا بغور مطالعہ کرنا ہوگا اور اپنے گریباں میں جھانکنا ہوگا۔ اپنے ذہنی سوچ کو وسیع کرکے علم جہاں سے بھی ملے اور جسے بھی ملے حاصل کرنے کی ترغیب دینی ہوگی۔ چاہے اس کے لیے چین جانا پڑے۔ یہی اسلامی درس ہے۔
دنیا دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی ہے آنے والے وقت میں وہی اقوام زندہ و پائندہ رہیں گی جنہوں نے سائنس میں ترقی کی ہوگی۔ سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی اپنی ترجیحات کو سائنسی رخ دینا ہوگا۔


کورونا وبا کی وجوہات  اور بڑھتے ہوئے مسائل 
تحریر: ڈاکٹر ارشد علی شیدائی 

اس وقت (٢٥ اپریل ) تک کورونا سے کل 2,833,791 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ 197,355 افراد اس موزی مرض کا شکار ہوکر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کل 807,578 خوش قسمت افراد صحت یاب ہو چوکے ہیں. 
کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ چین کے شہر ووہان سے دسمبر کے وسط میں شروع ہونے والا کوڈ-١٩ اس تیزی کے ساتھ پوری دنیا کو اپنے لپیٹ میں لے گا.
کورونا  وائرس کے شروعات  کے حوالے سے متعدد قیاس آرا یاں ہیں. سائنسی نقطہ نظر سےکہا جا رہا ہے کہ  یہ وائرس  جنگلی جانوروں سے خاص کرچمگادڑ سے پھیلا ہے. اس سلسلے میں ٢ مارچ ٢٠١٩ میں یونیورسٹی آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدانوں نے ایک سائنسی جریدے میں چھپے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ سارس اور میرس کی طرح کورونا وائرس کا پھیلاؤ چمگادڑ سے ہوگا اور یہ چین سے شروع ہوگا. یہی اب تک کی اصل سائنسی حقیقت ہے. 
 متعدی بیماریوں کے  پھلاؤ میں موسمیاتی تبدیلی ایک اہم وجہ ہے. ہم نے قدرتی ماحول کو اپنی ضروریات کے لئے یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے. ٤ جولائی ٢٠١٨ کو انیتا افیلٹ اور ساتھی تحقیق کاروں نے ایک سائنسی آرٹیکل چھاپا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ  پچھلی دہائی کے دوران ، چمگادڑوں کو نئے وائرس کے ایک بڑے ذرائع کے طور پر  دکھایا گیاہے ۔ ان میں ایس آر اے ایس یا ایم ای آر ایس  بلکہ ایبولا جیسے خطرناک کورونووائرس شامل ہیں۔ یہ خطرہ ممکنہ طور پر موجود ہے ، اور انسانی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے محرکات کو تلاش کی جانی چاہئے۔ انتھروپائزڈ (تبدیل شدہ) ماحول ایسے ہی موزیک مناظر ہیں جو ایک ہی جگہ پر ہوں ، مختلف چمگادڑوں کو  اپنی طرف راغب کرتے ہیں  جو عام طور پر مختلف نسلوں کے چمگادڑ ایک ساتھ نہیں مل پاتی ہیں۔ انتھروپائزڈ زمین چمگادڑ سے پیدا ہونے والے وائرس کو تیزی سے بڑھنے کا ذریعہ بن جاتی ہے. حالیہ برسوں  میں انتہائی تیزی کے ساتھ ہونے والے جنگلات کی کٹائی کےعمل کے دوران  نئے چمگادڑ سے پیدا ہونے والے وائرس پھیلنے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ممکنہ طور پر متعدی وائرسوں پر مشتمل چمگادڑوں کے ساتھ  مویشیوں اور انسانوں کے کثرت سے ہونے والے رابطوں کی وجہ سے وائرس ایک دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے. 

 شروع میں جب یہ وبا چین میں پھیلا اور چین میں اس نے  تباہی مچا دی، لوگ مرنے لگے اور چین کے تجارتی مراکز بند ہوگئے تب تمام ممالک نے چین کے ساتھ اپنے روابط ختم کردئے اور ایک لحاظ سے چین تنہا ہو گیا تو ایک طبقے کا خیال تھا کہ یہ چین کے خلاف ایک سازش ہے، چین کی ابھرتی ہوئی معیشت سے خوفزدہ امریکہ نے حیاتیاتی جنگی ہتھیار کے طور پر یہ وائرس چین پر مسلط کیا ہے. اس مفروضے کے حامی لوگ چین سمیت، روس اور پاکستان میں بھی پائے جاتے تھے/ہیں.  چین نے اپنے موثر حکمت عملی اور بہترین انتظامات اور کارکردگی سے ووہان شہر سمیت پورے چین کو لاک ڈون میں رکھا اور مارچ کے وسط تک اس وبا پر قابو پا لیا. باقی ملکوں نے اس کو زیادہ سنجیدگی سے  نہیں لیا اور یہ وبا دوسرے ملکوں میں پھیلنا شروع ہو گیا جس میں اٹلی، ایران، سویڈن، امریکہ، جرمنی اور کم و بیش ٢٠٠ ممالک میں پھیل گیا اور ابھی تک بہت تیزی سے پھیل رہا ہے. چین نے جب اس وبا پر قابو پا لیا اور یہ امریکہ میں خطرناک حدتک پھیلنا شروع ہوا تو ایک طبقہ اسکو چین کا پیدا کردہ حیاتیاتی ہتھیار کہنے لگا اس مفروضے کے  حامی لوگ امریکا سمیت دوسرے یوروپی ممالک کے ہیں. خود صدر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران  اسے  چائنیز وائرس کہ کر پکارا. 
         
کورونا وبا کی وجہ سے نہ صرف انسانی جانوں کو  نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اسے اور بہت سارے معاشرتی و ذہنی مسائل جنم لے رہے ہیں. تمام ممالک کے معیشت کو شدید دھچکہ لگا ہے. اب صورت حال سنگین تر ہوتی جا رہی ہے. کورونا سے  امیر و غریب ہر نسل و ذات کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں. لیکن غریب لوگوں  کو دو طرفہ خطرات لاحق ہیں، ایک طرف کورونا اور دوسری طرف بھوک و افلاس جینے نہیں دے رہا  ہے. کورونا سے اگر بچ بھی جائے تو بھوک سے مرنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہوتا ہے کیوں کہ روزگار کے تمام ذرائع اب مفقود ہو چکے ہیں. اس وجہ سے بہت سے لوگ آجکل ذہنی صدمے اور پریشانی کا شکار ہیں. 
کورونا وبا کی وجہ سے تمام تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں جسکی وجہ سے تحتیق اور تدریس کا عمل بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ہے. پاکستان میں کچھ  یونیورسٹیز نے آن لائن کلاسیس کا اعلان کیا ہے اور یہ پاکستان کے بڑے شہروں مثلا اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور فیصل آباد میں ممکن ہوسکتا ہے جہاں پر بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات میسر ہیں لیکن یہ سہولیات گلگت-بلتستان میں نہ ہونے کی وجہ سے کثیر تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں. اس وقت گلگت-بلتستان میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ جاری ہے اور انٹرنیٹ مہیا کرنے والا صرف ایک ہی ادارہ اسپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا کوئی ادارہ میدان میں نہیں اور انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہونے کی وجہ سے طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے یا ویڈیو لیکچرز سننے میں بہت دشواری کا سامنا ہے. حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کورونا وبا کے اس مشکل وقت لوگوں کو بجلی اور انٹرنیٹ کی تیز رفتار سہولیات بہم پہنچائے اور لوگوں کو اس ذہنی کوفت سے نکالے. 
اس وقت کورونا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور ابھی  تک کوئی ویکسین مارکیٹ میں نہیں آئی ہے. کچھ لیبارٹریز میں  ویکسین پر کام ہو رہا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ یہ کب تک انسانی استمعال کے لئے دستیاب ہوں گی. 
اس وقت حکومت اور عوام کو چاہئے کہ وہ بہتر حکمت عملی اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں. حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام کو ضروری سہولیات بہم پہنچائے اور عوام پر لازم ہے کہ  وہ حکومت کےبنائے ہوئے قوانین پر عمل کریں.