Sunday, August 30, 2020
Wednesday, June 10, 2020
Monday, June 1, 2020
صدائے دل کا اتنا بھی اثر کہاں ہے
جو چاہے ملے ایسا مقدر کہاں ہے
جھوٹ، دھوکہ، رشوت اور سفارش
یہ سب تو ہیں، انصاف مگر کہاں ہے
ضمیر بکتا ہے یہاں ووٹر نامدار کا
ووٹر کا خیال رکھے وہ رہبر کہاں ہے
منافقت پھیلی ہے ہر سوں جدھر دیکھو
باہر سے جو دکھتا ہے وہ اندر کہاں ہے
مایوسی جسکی مقدار ہے ہائے غربت
تاریک رات ہی ہے امید سحر کہاں ہے
جہالت اور نفرت تو پھیلائی جا رہی ہے
جو درس محبت دے وہ دانشور کہاں ہے
فرقہ واریت و تعصب کا درس عام ہے
امن و آشتی ملے جہاں وہ منبر کہاں ہے
تلاش میں جسکی در بدر پھرتا ہے شیدائی
خلوص جہاں سے ملے وہ در کہاں ہے
ارشد شیدائی
Thursday, May 28, 2020
لوگ
ہائے یہ غربت کے مارے لوگ
یہ ہمارے پیارے پیارے لوگ
انتخابات میں پھراستعمال ہونگے
کتنے سادہ ہیں یہ ہمارے لوگ
ارشد شیدائی
غربت
جینا ہے تو غربت کو مٹا کر جیو
دہرسے جہالت کوبھی ہٹا کر جیو
کر کے ناداروں کی کوئی خدمت
دنیا میں تھوڑی نیکی کما کر جیو
ارشد شیدائی
Monday, May 25, 2020
ارشد علی شیدائی
کہتے ہیں لوگ دنیا میں محبت فضول ہے
جن سے بچھڑنا ہو ان سے الفت فضول ہے
رہنا ہے تو سبوں سے مروت سے رہو
اس دو دن کی دنیا میں کدورت فضول ہے
معیار ایک نہ ہو تو اسکی جستجوں پھر کیوں ؟
جو چیز لا حاصل ہو اسکی چاہت فضول ہے
ظاہری خدوں خال سے معیار کو یوں مت پرکھو
نہ ہو سیرت اچھی تو پھر صورت فضول ہے
ہو جائے زلف گیرہ گیر اس جہاں میں گرکوئی
ایسے عاشقوں کے لئے تو قیامت فضول ہے
ملنی ہے تو ملے آسائشیں عمر بھر کے لئے
ایک دن کے لئے ملے ایسی راحت فضول ہے
ہے جو کچھ تمہارے پاس وہ نیکی میں کم آئے
جو مبتلائے غرور کرے ایسی دولت فضول ہے
ترک تعلق کی بات سے شیدائی وحشت فضول ہے
جو بت بات پہ بگڑے ایسی طبیت فضول ہے
Wednesday, May 20, 2020
ارشد شیدائی
گلگت ٢٠ مئی ٢٠٢٠
کتنے دکھ جیلے ہیں ہم نے زمانے میں
کۓ سال گزرے انہیں ہمیں آزمانے میں
ہم نے وہ چیز پالی ہے بالا آخر
جو نہیں ملتی باد شاہ کے خزانے میں
جو کہنا ہے سادہ لفظوں میں کہ ڈالو
حقیقت کو نہ چھپاؤ کسی فسانے میں
صدیاں لگ جاتی ہیں تعمیر ملت میں اور
چند ساعتیں درکار ہوتی ہیں آگ لگانے میں
عہدے شہرتیں دنیا میں ملتے رہیں گے
لوگ مصروف ہوں گے تجھے گرانے میں
ہم بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے روٹھ جانے میں
اور وہ بھی دیر نہیں لگاتا ہمیں منانے میں
Sunday, May 17, 2020
تم نے ہر اک راستہ ہمارا بند کر دیا تھا مرشد
مثل بیج زمین بوس ہوکر خود کو نکھارا ہے
کہدو زمینی خداؤں سے ہم ابھی کھل گئے ہیں
وہ دور تمہارا تھا اے مرشد، یہ دور ہمارا ہے
تم اگر مسائل میں ڈوب گئے ہو توبھی کیا ہوا
تیراک کے لئے تو سمندر میں بھی کنارا ہے
زمانے کے حوادث کا مقابلہ کرنا سیکھو دوستو
ہم نے بھی کئی بار مرجھا کر خود کو سنوارا ہے
اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہے یہ شیدائی
سہل کر دیا ہر مشکل جب بھی تجھے پکارا ہے
ارشد شیدائی
گلگت (١٧/٠٥/٢٠٢٠)
Monday, May 11, 2020
ڈاکٹر کی عدم موجودگی اور ایک ماں کی پریشانی (ایک سچی کہانی)
تحریر: ڈاکٹرارشد علی شیدائی
یہ ایک سرکاری ہسپتال تھا، یہاں ایک وقت صرف ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہوتا تھا. ہسپتال کی بڑی عمارت میں ایک عجیب کیفیت تھی. ہر طرف سے مریضوں کے کراہنے کی آوازیں آرہی تھیں. وہاں پر نہ کوئی ڈاکٹر موجود تھا اور نہ کوئی اور ملازم. باہر سے آتے مریض یا تو واپس لوٹ رہے تھے یا پھر انتظار گاہ کی جانب قدم بڑھا رہے تھے. جہاں وہ شدت سے ڈاکٹر کے آنے کا انتظار کر رہے تھے.
ہمیں اس انتظار گاہ میں بیٹھے کوئی ایک گھنٹہ ہو گیا تھا. جب ہم ہسپتال میں پہنچے تھے تب ایک ملازم وہاں پر موجود تھا. ان سے ڈاکٹر کے بارے میں پوچھا تو پتا لگا کہ ڈاکٹر تو ١٢ سے ٢ بجے تک چھٹی کر لیتے ہیں. یہ خبر سن کر ہم ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور آخر ایک فیصلہ کر کرکے انتظار گاہ کی رہ لی تھی، جہاں پہلے سے کچھ لوگ ڈاکٹر کی انتظار میں مایوس بیٹھے تھے. مریض سسک رہے تھے اور انکی یہ حالت دیکھ کر ہمارے پاؤں تھر تھر کانپنے لگے. انتزاۓ گاہ میں لوگ آتے اور جاتے تھے، ڈاکٹر کی غیر موجودگی کی وجہ سے انکی پریشانی اور بڑھتی جا رہی تھی. باہر سے آئے مریضوں کے علاوہ ہسپتال میں پہلے سے داخل مریض بھی ڈاکٹر کا شدت سے انتظار کر رہے تھے. لوگ وہاں آپس میں چہ میگویاں کر رہے تھے، کہ اچانک ایک آواز زدگوش ہوئی. انتظار گاہ میں خاموشی طاری ہو گئی. لوگ سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کے جانب دیکھنے لگے. آواز قریب ہوتی گئی اور پتا چلا کہ یہ کسی عورت کے رونے کی آواز ہے.
چند لمحے بعد وہ عورت انتظار گاہ میں داخل ہوئی. لوگوں میں تجسس بڑھتا گیا. وہ عورت ابھی تک زارو قطار رو رہی تھی. وہ بہت پریشان اور غمگین تھی. اسکے آنکھوں سے آنسوں رواں تھے. خاتون نے ایک ننھا سا بچہ ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا. آنسووں کے خشک نشان بچے کے چہرے پربھی عیاں تھے. خاتون بہت زیادہ پریشان اورغمگین تھی، وہ کبھی بچے کو پیار کر رہی تھی کبھی انتظار گاہ میں موجود لوگوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی پر کسی سے کچھ نہیں پوچھا اور کبھی ڈاکٹر کے آفس کی جانب امید کی نظروں سے تک رہی تھی. خاتون کسی سے کچھ پوچھے بغیر واپس پلٹی اور ڈاکٹر کے کلینک کے سامنے گئی. ڈاکٹر کی آفس میں غیر موجودگی سے وہ سخت مایوس ہوئی. انتظار گاہ میں موجود لوگ آپس میں اس عورت کے بارے میں باتیں کرنے لگے. لوگوں کی طرح میرے دل میں بھی طرح طرح کے خیالات جنم لینے لگے. مجھے لگا کہ شاید خاتون کو کوئی شدید چوٹ آئی ہوگی اور چوٹ کی شدت برداشت سے باہر ہے جو اس قدر رو رہی ہے. انہیں خیالات میں تھا کہ وہ خاتون واپس انتظار گاہ آئی. انکی پریشانی دیکھ کر میں نے چاہا کہ صاحبہ سے پریشانی کی وجہ دریافت کروں پرہمت نہیں ہوئی. تھوڑی دی بعد خاتون نے خود مجھ سے پوچھا، بھائی ڈاکٹر کہاں گئے ہیں ؟ میں نے کہا کہ ایک ملازم کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر ٢ بجے تک چھٹی کرتے ہیں.
اسی دوران ایک آدمی انتظار گاہ میں داخل ہوا وہ ہسپتال کا کوئی ملازم لگ رہا تھا. میں نے ان سے پوچھا، بھائی ڈاکٹر کب آئے گ؟ اسنے میری طرف حیرت سے دیکھا اور کہنے لگا، جناب ڈاکٹر تو ٤ بجے تک چھٹی کرتا ہے اور ٤ بجے کے بعد دوسرا ڈاکٹرشام کی ڈیوٹی کے لئے آتا ہے. یہ سن کر ہم سب بہت مایوس ہوئے. خاتون حد سے زیادہ پریشان اپنے منھے کو لئے ٹہلنے لگی. ایک عجیب سی بے چینی نے گھیرلیا. عورت کے رونے کی آواز سن کر ساتھ والے کمرے سے ایک بندہ باہر آیا جو ڈاکٹر صاحب کا اسسٹنٹ لگ رہا تھا جو بار بار ڈاکٹر کے کمرے میں جاکر ٹیلی فون اٹینڈ کر رہا تھا. اس نے خاتون کی اس پریشانی کی وجہ سے انہیں کمرے میں بلایا.
چند منٹ بعد وہ خاتوں واپس آئی اور میرے سامنے میز پر بیٹھ گئی . بچہ خاتون کے گود میں تھا اور باتیں کر سکتا تھا، ہم سے بار بار پوچھ رہا تھا، ڈاکٹر کہاں ہے ؟ میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ابھی آنے والا ہے. خاتون اب بھی پریشان تھی مگر رونا تھم گیا تھا. انکے چہرے پر شدید پریشانی عیاں تھی. میں نے خاتون سے پوچھا بہن کیا مسلہ ہے جواتنی زیادہ پریشان ہو؟ وہ کہنے لگی کہ ابھی گھر پر بچہ اپنے کھلونے سے کھیل رہا تھا اچانک فرش پر پھسلا اور گر گیا. بچہ رونے لگا تو دیکھا ایک دانت سے خون نکل آیا ہے. اب اس بچے کو یہاں لے کرآئی ہوں تاکہ اسکا علاج کر وا سکوں. میں نے تعجب سے پوچھا بس اتنی سی بات تھی اور آپ اتنی زیادہ پریشان ہو گئی. وو کہنے لگی، بچے کا زخم مجھ سے دیکھا نہیں جاتا.میرا لخت جگر ہے یہ، اور میں اس کے لئے ہر تکلیف سہ سکتی ہوں. میں اسی کے واسطے جیتی ہوں. میرا جینا اسی کے لئے اور میرا مرنا بھی اسی کے لئے. اس عمر میں اگر بچے کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں کر سکی تو مجھے عمر اسکا دکھ ستائے گا اور کل کو میں جوابدہ ہوں گی. میرا فرض پورا نہیں ہوگا. اسکا درد میرا درد ہے اور اسکا سکھ میرا سکھ.
میں نے خاتون کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ بہن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. بچہ ٹھیک ہے دانت سے اگر تھوڑا خون نکل آیا ہے تو ٹھیک ہو جائےگا. اگر دانت نکل بھی جاتا تو دوسرا دانت نکل آئےگا، کیوں کہ یہ دودھ کے دانت ہیں. بچہ خیریت سے ہے آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ مالک ہے.
مسٹر داوود نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہمیں ٤ بجے تک انتظار کرنا ہوگا. میں نے کچھ سوچ کر کہا کہ ہمیں ابھی واپس جانا چاہئے کل صبح پھرآجائیں گے. ہم وہاں سے نکل گئے مگر خاتون اپنے بچے کو لیکر وہی پرڈاکٹر کے انتظار میں ٤ بجے تک بیٹھی رہی. اسکا بچہ اب ہنس رہا تھا اور ٹہل رہا تھا.
نوٹ : سکول کے زمانے کا لکھا ہوا یہ مضمون اپنےقارئین کی بینائیوں کی نذر ہے۔
Tuesday, April 28, 2020
آج پھر کیوں چھا ئی یہاں اداسی ہے
ٹھنڈی شام، اندھیرا اور خاموشی ہے
کس کو فکر ہے انسانوں کے جنگل میں
دشت ویران میں پھر ایک کلی پیاسی ہے
مال و زر سب یہاں آنی جانی چیزیں ہیں
جستجوئے علم اچھا جو دولت لافانی ہے
غروروتکبراوقات بتاتی ہیں کسی کی بھی
عجزوانکساری ہی عظمت کی نشانی ہے
یہ وقت بھی آخر گزر جائے گا شیدائی
کہتے ہیں ہر مشکل کے بعد آسانی ہے
ارشد شیدائی
4/5/2019
Beijing
Saturday, April 25, 2020
سائنسی میدان اور پاکستانی حکمران
تحریر: ڈاکٹر ارشد علی شیدائی
سائنس میں ترقی کے لیے بہترین سائنسی ماحول، معیاری سائنسی تجربہ گاہیں، ماہر افراد، ضروری سہولیات و تجرباتی آلات، زمینی تحقیقاتی مراکز اور خلائی مصنوعی سیارے، تجسس و سائنسی رجہانات، تحقیق کاروں اور سائنسدانوں کے لیے مراعات اور حکومتی پولیسی میں ترجیحات اور عملی اقدامات شامل ہیں۔
کوئی بھی مذہبی یا غیر مذہبی شخص، معاشرہ یا ملک متذکرہ اوصاف کے حامل ہو سائنس میں ترقی اور کمال حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان کے سائنسی ترقی میں پیچھے رہ جانے کی بنیادی وجہ ترجیحات ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں نے کبھی سائنس کو پہلی ترجیح نہیں دی اور آہستہ آہستہ ہم آگے جانے کی بجاۓ تنزلی کا شکار رہے۔ انڈیا سے تو ہم پیچھے ہیں ہی لیکن اب بنگلادیش اور نیپال سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔
چین ایک کمیونسٹ ملک ہے اور جدید چین پاکستان کے بعد آذاد ہوا ہے لیکن سائنسی ترقی میں چین ہم سے کم از کم سو سال آگے ہے۔ اپنی مسلسل جدوجہد، محنت اور سائنسی ترقی کو اپنی اولین ترجیح رکھنے کی وجہ سے، پچھلے بیس سال کے قلیل عرصے میں اپنے ایجادات و مصنوعات کی موثر مارکیٹنگ کرکے آج دوسری سب سے بڑی عالمی طاقت بن کر ابھری ہے اور ترقی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔
چین ایک کمیونسٹ ملک ہے اور جدید چین پاکستان کے بعد آذاد ہوا ہے لیکن سائنسی ترقی میں چین ہم سے کم از کم سو سال آگے ہے۔ اپنی مسلسل جدوجہد، محنت اور سائنسی ترقی کو اپنی اولین ترجیح رکھنے کی وجہ سے، پچھلے بیس سال کے قلیل عرصے میں اپنے ایجادات و مصنوعات کی موثر مارکیٹنگ کرکے آج دوسری سب سے بڑی عالمی طاقت بن کر ابھری ہے اور ترقی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان اس وقت سائنسی اور معاشی میدان میں کہاں کھڑا ہے سب پاکستانیوں کو بخونی پتہ ہے۔ پاکستان کی یہ حالت حکمرانوں کی ناقص پالیسی اور نامناسب قومی ترجیحات ہیں۔ ہمارے حکمران قومی ترقی کی بجاۓ ذاتی منفعت دیکھتے رہے اور ملکی بجٹ ایسے غیر ضروری منصوبوں پہ لگایا جن کا قومی ترقی و خوشحالی سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ جس کی وجہ سے آج پوری قوم دنیا میں رسوا ہو رہی ہے۔ غربت دن بدن بڑھ رہی ہے امیر مزید امیر ہوتا جا رہا ہے اور غریب غریب تر۔
ماضی کے مسلم سائنسدانوں کے سائنسی کارناموں اور خدمات کو اپنے کھاتے میں ڈال کر اترانے اور جتانے والے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے مجاہدوں کو اب خواب غفلت سے جاگ کر حقیقت حال کا بغور مطالعہ کرنا ہوگا اور اپنے گریباں میں جھانکنا ہوگا۔ اپنے ذہنی سوچ کو وسیع کرکے علم جہاں سے بھی ملے اور جسے بھی ملے حاصل کرنے کی ترغیب دینی ہوگی۔ چاہے اس کے لیے چین جانا پڑے۔ یہی اسلامی درس ہے۔
دنیا دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی ہے آنے والے وقت میں وہی اقوام زندہ و پائندہ رہیں گی جنہوں نے سائنس میں ترقی کی ہوگی۔ سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی اپنی ترجیحات کو سائنسی رخ دینا ہوگا۔
کورونا وبا کی وجوہات اور بڑھتے ہوئے مسائل
تحریر: ڈاکٹر ارشد علی شیدائی
اس وقت (٢٥ اپریل ) تک کورونا سے کل 2,833,791 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ 197,355 افراد اس موزی مرض کا شکار ہوکر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کل 807,578 خوش قسمت افراد صحت یاب ہو چوکے ہیں.
کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ چین کے شہر ووہان سے دسمبر کے وسط میں شروع ہونے والا کوڈ-١٩ اس تیزی کے ساتھ پوری دنیا کو اپنے لپیٹ میں لے گا.
کورونا وائرس کے شروعات کے حوالے سے متعدد قیاس آرا یاں ہیں. سائنسی نقطہ نظر سےکہا جا رہا ہے کہ یہ وائرس جنگلی جانوروں سے خاص کرچمگادڑ سے پھیلا ہے. اس سلسلے میں ٢ مارچ ٢٠١٩ میں یونیورسٹی آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدانوں نے ایک سائنسی جریدے میں چھپے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ سارس اور میرس کی طرح کورونا وائرس کا پھیلاؤ چمگادڑ سے ہوگا اور یہ چین سے شروع ہوگا. یہی اب تک کی اصل سائنسی حقیقت ہے.
متعدی بیماریوں کے پھلاؤ میں موسمیاتی تبدیلی ایک اہم وجہ ہے. ہم نے قدرتی ماحول کو اپنی ضروریات کے لئے یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے. ٤ جولائی ٢٠١٨ کو انیتا افیلٹ اور ساتھی تحقیق کاروں نے ایک سائنسی آرٹیکل چھاپا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ پچھلی دہائی کے دوران ، چمگادڑوں کو نئے وائرس کے ایک بڑے ذرائع کے طور پر دکھایا گیاہے ۔ ان میں ایس آر اے ایس یا ایم ای آر ایس بلکہ ایبولا جیسے خطرناک کورونووائرس شامل ہیں۔ یہ خطرہ ممکنہ طور پر موجود ہے ، اور انسانی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے محرکات کو تلاش کی جانی چاہئے۔ انتھروپائزڈ (تبدیل شدہ) ماحول ایسے ہی موزیک مناظر ہیں جو ایک ہی جگہ پر ہوں ، مختلف چمگادڑوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں جو عام طور پر مختلف نسلوں کے چمگادڑ ایک ساتھ نہیں مل پاتی ہیں۔ انتھروپائزڈ زمین چمگادڑ سے پیدا ہونے والے وائرس کو تیزی سے بڑھنے کا ذریعہ بن جاتی ہے. حالیہ برسوں میں انتہائی تیزی کے ساتھ ہونے والے جنگلات کی کٹائی کےعمل کے دوران نئے چمگادڑ سے پیدا ہونے والے وائرس پھیلنے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ممکنہ طور پر متعدی وائرسوں پر مشتمل چمگادڑوں کے ساتھ مویشیوں اور انسانوں کے کثرت سے ہونے والے رابطوں کی وجہ سے وائرس ایک دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے.
شروع میں جب یہ وبا چین میں پھیلا اور چین میں اس نے تباہی مچا دی، لوگ مرنے لگے اور چین کے تجارتی مراکز بند ہوگئے تب تمام ممالک نے چین کے ساتھ اپنے روابط ختم کردئے اور ایک لحاظ سے چین تنہا ہو گیا تو ایک طبقے کا خیال تھا کہ یہ چین کے خلاف ایک سازش ہے، چین کی ابھرتی ہوئی معیشت سے خوفزدہ امریکہ نے حیاتیاتی جنگی ہتھیار کے طور پر یہ وائرس چین پر مسلط کیا ہے. اس مفروضے کے حامی لوگ چین سمیت، روس اور پاکستان میں بھی پائے جاتے تھے/ہیں. چین نے اپنے موثر حکمت عملی اور بہترین انتظامات اور کارکردگی سے ووہان شہر سمیت پورے چین کو لاک ڈون میں رکھا اور مارچ کے وسط تک اس وبا پر قابو پا لیا. باقی ملکوں نے اس کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا اور یہ وبا دوسرے ملکوں میں پھیلنا شروع ہو گیا جس میں اٹلی، ایران، سویڈن، امریکہ، جرمنی اور کم و بیش ٢٠٠ ممالک میں پھیل گیا اور ابھی تک بہت تیزی سے پھیل رہا ہے. چین نے جب اس وبا پر قابو پا لیا اور یہ امریکہ میں خطرناک حدتک پھیلنا شروع ہوا تو ایک طبقہ اسکو چین کا پیدا کردہ حیاتیاتی ہتھیار کہنے لگا اس مفروضے کے حامی لوگ امریکا سمیت دوسرے یوروپی ممالک کے ہیں. خود صدر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اسے چائنیز وائرس کہ کر پکارا.
کورونا وبا کی وجہ سے نہ صرف انسانی جانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اسے اور بہت سارے معاشرتی و ذہنی مسائل جنم لے رہے ہیں. تمام ممالک کے معیشت کو شدید دھچکہ لگا ہے. اب صورت حال سنگین تر ہوتی جا رہی ہے. کورونا سے امیر و غریب ہر نسل و ذات کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں. لیکن غریب لوگوں کو دو طرفہ خطرات لاحق ہیں، ایک طرف کورونا اور دوسری طرف بھوک و افلاس جینے نہیں دے رہا ہے. کورونا سے اگر بچ بھی جائے تو بھوک سے مرنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہوتا ہے کیوں کہ روزگار کے تمام ذرائع اب مفقود ہو چکے ہیں. اس وجہ سے بہت سے لوگ آجکل ذہنی صدمے اور پریشانی کا شکار ہیں.
کورونا وبا کی وجہ سے تمام تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں جسکی وجہ سے تحتیق اور تدریس کا عمل بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ہے. پاکستان میں کچھ یونیورسٹیز نے آن لائن کلاسیس کا اعلان کیا ہے اور یہ پاکستان کے بڑے شہروں مثلا اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور فیصل آباد میں ممکن ہوسکتا ہے جہاں پر بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات میسر ہیں لیکن یہ سہولیات گلگت-بلتستان میں نہ ہونے کی وجہ سے کثیر تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں. اس وقت گلگت-بلتستان میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ جاری ہے اور انٹرنیٹ مہیا کرنے والا صرف ایک ہی ادارہ اسپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا کوئی ادارہ میدان میں نہیں اور انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہونے کی وجہ سے طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے یا ویڈیو لیکچرز سننے میں بہت دشواری کا سامنا ہے. حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کورونا وبا کے اس مشکل وقت لوگوں کو بجلی اور انٹرنیٹ کی تیز رفتار سہولیات بہم پہنچائے اور لوگوں کو اس ذہنی کوفت سے نکالے.
اس وقت کورونا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور ابھی تک کوئی ویکسین مارکیٹ میں نہیں آئی ہے. کچھ لیبارٹریز میں ویکسین پر کام ہو رہا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ یہ کب تک انسانی استمعال کے لئے دستیاب ہوں گی.
اس وقت حکومت اور عوام کو چاہئے کہ وہ بہتر حکمت عملی اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں. حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام کو ضروری سہولیات بہم پہنچائے اور عوام پر لازم ہے کہ وہ حکومت کےبنائے ہوئے قوانین پر عمل کریں.
Thursday, April 23, 2020
سچ کی طاقت
ارشد اے شیدائی
راستی سیدھی سڑک ہے اس میں کچھ کھٹکا نہیں
کوئی رہرو آج تک اس راہ میں بھٹکا نہیں
سچ ایک تناور اور سایہ دار درخت ہے جسکی چاؤں میں انسان ہمیشہ محفوظ و مامون رہتا ہے. حوادث کی غم خیز آندیاں اس درخت کی سلامتی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتیں. سچ انسانیت کا جوہر ہے. یہ نہ طاقت سے دبتا ہے نہ زندان میں قید ہوتا ہے. سچائی کے سبھی مبلغین نے چھوٹے سے چھوٹا جھوٹ بولنے سے بھی منح کیا ہے. حضرت عبدللہ بن عمر کی روایت سے حضور اکرم (ص۔ع ) کی یہ حدیث قابل غور ہے کہ "جب کوئی انسان جھوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس جھوٹ کی وجہ سے اس سے دور رہتے ہیں". مشاہدات نے ثابت کیا ہے کہ ہر زمانے اور ہر معاشرے میں سچ کی مخالفت کرنے والے کچھ عناصر ضرور ہوتے ہیں مگر انسان کو گھبرانا نہیں چاہئے. آخر جیت سچ ہی کی ہوتی ہے. انسانی کردار کی سب سے بڑی دولت سچ ہے. مگرانسان جھوٹ کے ہاتھوں اس دولت کو لوٹا کرخود کو کنگال بنا دیتا ہے. افلاس و تہی دامنی کی یہ سب سے بڑی قسم ہے-
سچائی کے راستے پہ چلتے رہو
صدا پھولتے اور پھلتے رہو
ایک قافلہ کہیں جا رہا تھا. راستے میں ڈاکوآ ئے اور قافلے کے سارے مال و اسباب، سونا سب کچھ چھین لیا. اسی قافلے میں ایک چھوٹا سا لڑکا بھی تھا. ایک ڈاکو اس لڑکے کے پاس آیا اور پوچھا بتاؤ تمہارے پاس کیا ہے ؟ لڑکے نے جواب دیا " میرے پاس ٢٠٠ روپے ہیں " ڈاکو نے اعتبار نہیں کیا اور چلا گیا. دوسرا ڈاکو آیا اور پوچھا تو لڑکے نے یہی جواب دیا. ڈاکو لڑکے کو اپنے سردار کے پاس لے گیا اور بولا کہ جناب عالی یہ لڑکا جھوٹ بولتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے پاس ٢٠٠ روپئے ہیں. سردار نے پوچھا بتاؤ تمہارے پاس کیا ہے؟ بولا جناب میرے پاس٢٠٠ روپئے کپڑوں میں سلے ہوئے ہیں. ڈاکو نے تلاشی لی اور جیب سے ٢٠٠ روپئے نکال لئے. سردار حیران رہ گیا اور لڑکے سے پوچھا تم نے اپنے روپے کیوں نہیں چھپا لیا ؟ اور سچ کیوں کہا. لڑکا بولا میری والدہ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ بیٹا تم کبھی بھی جھوٹ نہ بولنا، اس لئے میں نے جھوٹ نہیں بولا. سردار دائر تک سوچتا رہا، پھر توبہ کیا اور کہا کہ یہ چھوٹا بچہ اپنی ماں کا حکم کس طرح بجا لاتا ہے. جبکہ ہم اپنے خدا کا حکم نہیں مانتے ہیں اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں. آج کے بعد میں بھی اپنی اس بری عادت کو ختم کروں گا. اس نے قافلے سے چھینے ہوئے تمام مال انہیں واپس کر دئیے. یہ ہے سچ اور یہ ہے اس کا پھل.
شیر دل بن جاؤ تم راستی اختیار کر کے
شیریں زباں بن کے اوروں کو سرشار کر کے
راستی کو شیوہ بنا اے شیدائی آپ اپنا
دل میں بہار کر خدا کو مدد گار کر کے
نوٹ: سکول کے زمانے کا لکھا ہوا یہ مضموں اپنےقارئین کی نظر ہے
Subscribe to:
Comments (Atom)




























